خلیفہ المسلمین کے گھر کی حالت
اس نے نمازی کی طرف دیکھا کہ شاید مذاق کر رہا ہو لیکن اسے سنجیدہ پا کر دروازے سے آگے بڑھ گیا۔ اسے دروازے کی دراڑ سے نظر آیا کہ ایک بزرگ گارے سے دیوار لیپ رہا ہے اور ایک بی بی آٹا گوندھ رہی ہے۔ اس نے دروازہ چھوڑ دیا اور غصے سے اس نمازی کو پکڑ لیا اور کہا تو نے مجھ سے جھوٹ بول کر کیا لینا تھا؟ میں نے تجھ سے خلیفہ کا گھر پوچھا تھا لیکن تو نے معمار کا گھر بتا دیا !
نمازی: کون سا معمار؟
وہ امیر المومنین کی بیوی، خلیفہ عبدالملک کی بیٹی اور دو خلفاء ولید بن عبدالملک
سمرقندی: گھر والا اور کون؟“ پھر اسے گھر والے کا حلیہ بتایا۔
نمازی: افسوس تجھ پر ! وہی تو امیر المومنین عمر بن عبد العزیز ہیں۔ کہ اس وقت اللہ کے بعد روئے زمین پر اس سے بڑا حکمران کوئی نہیں ہے۔ اور وہ عورت؟
اور سلیمان کی بہن بعد میں بننے والے دو خلفاء کی ہمشیرہ ، عرب کی معزز ترین عورت ہے۔ امیر المومنین بذات خود بڑے مالدار، خوش پوش اور خوش خوراک انسان تھے۔
لیکن ان میں دنیا کے مشہور ترین عادل حکمران عمر فاروق کی رگ تھی جو اسے اس ات میں لے آئی۔
کوئی متکبر اور ظالم و جابر حکمران نہیں ہے۔ یہ تو متواضع اور منکسر المزاج امیر المومنین ہیں انھیں حق بات نافذ کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔ جب یہ اللہ کی خاطر غصہ میں آتے ہیں تو ہواؤں کے جھکڑ اور بادلوں کی بجلیاں اس کی قوت بن جاتی ہیں۔واپس جا اور دروازہ کھٹکھٹا کر انھیں اپنا قصہ سنا اور خوف نہ کھا۔ اللہ کی قسم








