حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ام المومنین میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں۔ ان کا اصل نام رملہ بنت ابو سفیان تھا اور ان کی کنیت ام حبیبہ رکھی گئی ۔ قریش کے سردار ابو سفیان کی بیٹی ہونے کے باوجود انہوں نے ابتدائی اسلام قبول کیا اور ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں
ابتدائی زندگی
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا تقریباً 589 یا 594 عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ابو سفیان بن حرب قریش کے طاقتور سردار اور اسلام کے ابتدائی مخالفین میں سے تھے، جبکہ والدہ صفیہ بنت ابو العاص تھیں ۔ آپ کا پہلا نکاح عبیداللہ بن جحش سے ہوا، جو ایک دولت مند صحابی تھے اور دونوں نے ابتدائی اسلام قبول کرنے کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ وہاں عبیداللہ نے عیسائیت قبول کر لی، جس سے آپ تنہا رہ گئیں اور آپ کی بیٹی حبیبہ بھی پیدا ہوئی
نکاح رسول اللہ صلی اللہ سے
حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کا نکاح نبوی کیا، جو عدت کے بعد مکمل ہوا۔ یہ نکاح سیاسی اور خاندانی توحید کی علامت تھا، کیونکہ اس سے ابو سفیان کا خاندان نبوی خاندان سے جڑ گیا ۔ آپ مدینہ پہنچیں تو جعفر بن ابی طالب نے ان کی استقبالیہ کی، اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ سے ملاقات کی ۔ فتح مکہ سے پہلے ابو سفیان مدینہ آئے تو آپ نے انہیں نبی کے بستر پر نہ بیٹھنے دیا، جو آپ کی ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے
خدمات اور ورثہ
آپ رضی اللہ عنہا حدیث کی عظیم راوی تھیں اور بخاری، مسند احمد سمیت تقریباً 65 احادیث روایت فرمائیں ۔ آپ نے حج کے مسائل پر بھی رہنمائی کی اور اپنے والد و بھائی معاویہ کی اسلام قبول کرنے کی دعا کی، جو فتح مکہ پر پوری ہوئی ۔ 44 ہجری (664-665 عیسوی) میں مدینہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ آپ کی زندگی ہجرت، صبر اور ایمان کی بہترین مثال ہے، جو کے لیے “ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سوانح حیات” جیسے الفاظ سے تلاش کرنے والوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے
ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی اسلام قبول کرنے کا واقعہ ابتدائی اسلام کے دور میں پیش آیا جب آپ نے اپنے شوہر حضرت عبیداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ایمان لانے کا اعلان کیا ۔ یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا جب قریش کا خاندان ابو سفیان مخالفِ رسول تھا، مگر آپ نے خاندانی دباؤ کے باوجود اسلام کی روشنی قبول کی ۔
اسلام قبول کرنے کا پس منظر
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام رملہ بنت ابو سفیان تھا اور آپ ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہوئیں۔ آپ کے شوہر عبیداللہ بن جحش بھی ابتدائی صحابہ میں تھے، جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر اسلام قبول کیا اور دونوں نے حبشہ ہجرت کی ۔ خاندان کی مخالفت اور والد ابو سفیان کی دشمنی کے باوجود آپ نے ایمان پر استقامت دکھائی، جو سورۃ التوبہ کی آیت “والسابقون الاولون من المهاجرین والانصار” کے مصداق ہے
استقامت اور آزمائش
حبشہ پہنچنے پر آپ کے شوہر مرتد ہوگئے اور عیسائی بن کر وفات پاگئے، مگر آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایمان کو مضبوط رکھا۔ آپ نے خواب میں بھی انہیں بری حالت میں دیکھا اور اسلام کی طرف بلایا، مگر وہ نہ مانے ۔ اس آزمائش کے باوجود آپ تنہا رہیں اور بیٹی حبیبہ کی پرورش کی، جو آپ کی کنیت کا سبب بنی
خاندان کی ہدایت کا ذریعہ
آپ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجاشی کے ہاتھوں ہوا، جس نے آپ کے والد ابو سفیان اور بھائی معاویہ رضی اللہ عنہما کی اسلام قبول کرنے میں کردار ادا کیا۔ فتح مکہ پر آپ نے والد کی اسلام قبول کرنے پر مسرت کا اظہار کیا ۔ آپ کی زندگی ایمان کی مضبوطی اور صبر کی مثال ہے










